مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کا معاملہ – NANDED TODAY NEWS
You are here
Home > Dialy News > مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کا معاملہ

مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کا معاملہ

Mumbai: 5,Feb,2021

مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار پانچ ملزمین کا مقدمہ آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے، وکیل استغاثہ پرکاش شیٹی اور دفاعی وکلاء عبدالوہاب خان کی بحث مکمل ہوچکی ہے جبکہ ایڈوکیٹ شریف شیخ کی بحث آج نا مکمل رہی، اس سے قبل استغاثہ اور دفاع نے عدالت میں تحریری بحث بھی داخل کی تھی، مقدمہ آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اور بہت جلد فیصلہ متوقع ہے، یہ طلاع آج یہاں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ آج تمام ملزمین کو تقریباً ایک سال کے طویل عرصہ کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا، ملزمین کی موجودگی عدالتی میں آج کی عدالتی کارروائی ہوئی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ استغاثہ کے مطابق ریاستی انسدا ددہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس)نے ان ملزمین کو 30 اگست2012 کو ناندیڑ ضلع کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا تھا اور ان کے قبضے سے چار ریوالور سمیت دیگر ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن سرکاری گواہوں کی گواہی سے ایسا لگتا ہے کہ ان ملزمین کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت جعلی مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ اس معاملے میں گواہی دینے والے بیشتر آزاد گواہ اپنے سابقہ بیانوں سے منحرف ہوچکے ہیں اور پولس والوں کی گواہی بھی مشکوک رہی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ دوران بحث ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان اور شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ عدالت میں ملزمین کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام ہوا لہذا ملزمین کو مقدمہ سے باعزت بری کردینا چاہئے۔ دفاعی وکلاء نے عدالت میں سرکاری اور دفاعی گواہوں کے بیانات کی روشنی میں تحریری اور زبانی بحث کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج دنیش کوٹھلیکر کو بتایا کہ گر گواہوں کی گواہی کو قانونی میعار پر پرکھا جائے تو ملزمین پر الزام ثابت نہیں ہوتا ہے جس کا ملزمین کو فائدہ ملنا چاہئے۔
دوران بحث دفاعی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ گجرات فسادات میں مارے گئے مسلمانو ں کے تعلق سے سوچنا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی جہاد کے بارے میں پڑھنا کوئی جرم ہے، استغاثہ نے جہاد کا غلط مطلب عدالت کے سامنے پیس کیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃ علماء نے وکلاء کی ایک ٹیم تیار کی جس میں ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ،یڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ رازق شیخ،، ایڈوکیٹ ارشد شیخ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگر شامل ہیں۔
دفاعی وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ کے علاوہ ایڈوکیٹ قدرت شیخ اور ایڈوکیٹ بخاری بھی ملزمین کے دفاع میں زبانی بحث کریں گے۔
واضح رہے کہ ان ملزمین کی گرفتاری کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جا رہا تھا لیکن بعد میں جب جمعیۃ علماء ناندیڑ سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے ان نوجوانوں کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو معاملے کی تفتیش 2006مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمہ کی طرز پر این آئی اے کے سپرد کی گئی۔
استغاثہ کے مطابق ملزمین کاتعلق ممنوع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد سے ہے اور ان کے نشانے پر ناندیڑ علاقے کے ایم پی،ایم ایل اے اور صحافی حضرات تھے۔
اس معاملے میں اے ٹی ایس نے ملزمین محمد مزمل عبدالغفور، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر پر آرمس قانون کی دفعات25,3 اور یواے پی اے قانون کی دفعات 10،13،15، اور 16 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Total Page Visits: 198 - Today Page Visits: 1

Leave a Reply

Top